
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ خلیج کے بعض ممالک نے بار بار ایرانی حاکمیت اور فضائی حدود کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بحرین کی جانب سے، جو چند خلیجی ممالک کی نمائندگی کرتا ہے، ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
ایروانی نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج کی نگرانی اور جائزہ کے مطابق، یہ ممالک بار بار اپنے علاقے اور فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف غیرقانونی فوجی کارروائیاں منصوبہ بندی اور عمل میں لاتے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں ناکارہ ہونے والے ہتھیاروں کے ملبے کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہتھیار بعض خلیجی ممالک کے ذخائر سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ ممالک نہ صرف جارحین کی معاونت کرتے ہیں بلکہ خود بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں شامل ہیں۔
ایران کے مندوب نے دہشت گردی سے متعلق الزامات پر زور دیا کہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور کئی سالوں سے اس کے خلاف مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
ایروانی نے کہا کہ ایران کے خلاف دہشت گرد گروہوں سے تعلق کے الزامات حقیقت کے منافی ہیں، کیونکہ ایران نے انسانی اور مالی طور پر بھاری قیمت ادا کی ہے اور اس کے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، نیز یہ الزامات اصل تجاوزات کی حقیقت کو چھپانے میں ناکام ہیں۔
