لبنان میں جنگ بندی ایران کی پہلی شرط تھی، صہیونی میڈیا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ایک عارضی جنگ بندی قائم ہوئی تھی، تاہم اس دوران صہیونی حکومت نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری رکھے۔ ان حملوں کے باعث خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے لگی اور جنگ کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ اس صورتحال کے تناظر میں اب لبنان کے محاذ پر دوبارہ جنگ بندی کے اعلان کو خطے میں دباؤ کم کرنے اور جنگ کے دائرے کو محدود رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کا قائم ہونا دراصل ایران کی جانب سے رکھی گئی اولین شرط تھی۔ اگر جنگ بندی واقعی نافذ ہوتی ہے تو اسے امریکہ، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے سامنے ایک قسم کی پسپائی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ لبنان میں جنگ بندی کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ ایران کے مطالبات کے سامنے جھک گیا ہے، جبکہ یہ صورتحال واشنگٹن کے لیے سیاسی طور پر خوش آئند نہیں سمجھی جا رہی۔

ٹرمپ کا اعلان اور امریکی بیانیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کے محاذ پر 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز ہو رہا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اسرائیل اس جنگ بندی کو کس حد تک قبول کرے گا اور آیا اس پر مکمل عملدرآمد ممکن ہوگا یا نہیں۔

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان محض ایک سفارتی خبر نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش بھی ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے امریکہ خود کو امن کا ثالث ظاہر کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اور حزب اللہ کے کردار کو کمزور دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری تنازع بنیادی طور پر لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان نہیں بلکہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہے۔ لبنانی حکومت اس معاملے میں فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر رہی، بلکہ زیادہ تر ایک ثانوی فریق یا ناظر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اگر جنگ بندی کو لبنان کی حکومت کے ساتھ معاہدہ قرار دیا جائے تو اسے حقیقت سے ہٹ کر ایک منظم سیاسی کوشش سمجھا جاتا ہے، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ اسرائیل کسی غیر ریاستی طاقت کے سامنے مجبور نہیں ہوا۔

جنگ بندی کیوں ناگزیر ہوئی؟

اسرائیل جو کئی ہفتوں سے مسلسل حملے کر رہا تھا اور جنگ بندی سے صاف انکار کرتا رہا، اچانک وقفے پر کیوں آمادہ ہوا؟ مبصرین کے مطابق اس سوال کا جواب میدان میں بدلتی صورتحال میں موجود ہے۔ گزشتہ 40 دنوں کے دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان پر شدید بمباری اور متعدد عسکری کارروائیاں کیں، تاہم یہ حملے اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل نہ کرسکے۔ دوسری طرف حزب اللہ نے مزاحمت جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کے لیے جنگ کی لاگت بڑھا دی، جس سے تل ابیب پر سکیورٹی اور عسکری دباؤ میں اضافہ ہوا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اسی دباؤ کے باعث جنگ بندی اسرائیل کے لیے ایک اختیار نہیں بلکہ ایک مجبوری بن گئی، کیونکہ طویل جنگ کی صورت میں مزید نقصان اور غیر یقینی صورتحال بڑھتی جارہی تھی۔

مذاکرات، دباؤ اور ایران کا کردار

رپورٹ کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے بھی مربوط ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں ایران کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ایک اہم شرط یہ رکھی گئی تھی کہ جنگ بندی کو لبنان کے محاذ تک بھی بڑھایا جائے۔

یہ شرط ایران کی اس حکمت عملی کا حصہ تھی جس میں میدان جنگ اور مذاکرات دونوں کو ایک ساتھ منظم کیا گیا۔ ایران یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ اگر میدان جنگ میں کشیدگی برقرار رہی تو مذاکرات میں کسی حقیقی پیش رفت کی گنجائش نہیں ہوگی۔

اسرائیلی میڈیا، خصوصا چینل i24 نے بھی لکھا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کی طرف سے امریکہ پر مسلط کی گئی شرط ہے اور مقاومت نے امریکہ و اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ جنگ بندی کی طرف جائیں۔

جنگ بندی امریکہ کی کامیابی نہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال میں امریکہ کا کردار فیصلہ ساز سے زیادہ سہولت کار کا رہا ہے۔ جب تک اسرائیل خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتا رہا، جنگ بندی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، لیکن جیسے ہی جنگ کے اخراجات بڑھنے لگے اور واضح کامیابی کا امکان کمزور ہوا، تو جنگ بندی ایک منطقی راستہ بن گئی۔

لبنان میں حالیہ جنگ بندی کو امریکہ کی سفارتی کامیابی قرار دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ جنگ بندی دراصل دباؤ، مزاحمت، عسکری توازن اور سیاسی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں ایران اور مقاومتی محاذ نے اپنے بعض مطالبات مخالف فریق پر منوانے میں کامیابی حاصل کی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *