جنگ بندی تہران کے واضح دباؤ سے ممکن ہوئی، لبنانی رکن پارلیمنٹ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ سے وابستہ بلاک کے رکن حسین الحاج حسن نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے واضح دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سامنے پسپائی اختیار کی اور جنگ بندی تہران کے کھلے اور واضح دباؤ کے ذریعے قائم ہوئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن مکار ہے اور اس کے مقابلے میں ہوشیار رہنا ضروری ہے، کیونکہ صہیونی حکومت کئی مرتبہ موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکی ہے۔

حسین الحاج حسن نے کہا کہ ہم مسلسل نگرانی کر رہے ہیں کہ دشمن جنگ بندی اور دیہات پر حملے نہ کرنے کے وعدے پر قائم رہتا ہے یا دوبارہ قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کی طرف لوٹتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت کی پسپائی، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی، تعمیر نو اور حملوں کا خاتمہ وہ اہداف ہیں جو مقاومت کے سامنے ہیں۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ روز صبح ایک ٹیلی فونک رابطے میں لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے کہا تھا کہ لبنان، امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور کسی بھی معاہدے کا مرکزی حصہ ہے۔

حسین الحاج حسن نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے دباؤ کے سامنے جھک گیا اور نیتن یاہو کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اسی گفتگو نے لبنان میں جنگ بندی کے حصول میں مدد دی۔

حسین الحاج حسن نے جنگ بندی کے باضابطہ آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور بنت جبیل، الخیام اور دیگر قصبے صہیونی حکومت کے ہاتھ نہیں لگ سکے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *