50 دن بعد ایران نے کھولا اپنا ایئر اسپیس، مشرقی حصے میں بین الاقوامی پروازیں شروع

ایران میں انٹرنیٹ پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے ’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کو 50 دن مکمل ہو چکے ہیں۔

پرواز، علامتی تصویر یو این آئیپرواز، علامتی تصویر یو این آئی

i

user

ایران نے اپنی فضائی حدود (ایئر اسپیس) کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ اب ایران کے مشرقی حصے سے گزرنے والی بین الاقوامی پروازوں کو اجازت مل گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ہوائی اڈے بھی صبح 7 بجے سے کھول دیے گئے ہیں۔ حالانکہ اس کے 3 گھنٹے بعد تک بھی فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس پر زیادہ بین الاقوامی پروازیں ایران کے اوپر سے گزرتی ہوئی نظر نہیں آئیں۔ کئی ایئر لائنس اب بھی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کی فضائی حدود سے بچ کر طویل راستہ اختیار کر رہی ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ آہستہ آہستہ پورے ملک کے ہوائی اڈوں پر پروازیں شروع کی جائیں گی۔ دوسری جانب، برطانیہ نے ’آبنائے ہرمز‘ میں تجارتی جہازوں کی معمول کی آمد و رفت شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اس اہم سمندری راستے پر صورتحال اب تک معمول پر نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کے لیے یہاں سے شپنگ کا مکمل طور پر بحال ہونا بہت ضروری ہے۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز فی الحال مکمل طور پر نہیں کھلا ہے۔ ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ راستہ ابھی صرف جنگ بندی کے دوران اور کچھ شرائط کے ساتھ ہی کھلا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ فوجی جہازوں اور دشمن طاقتوں سے وابستہ جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ پر دباؤ بڑھتا ہے، تو یہ انتظام بدلا جا سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس دوران ایران میں انٹرنیٹ پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے ’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کو 50 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ یعنی تقریباً 7 ہفتوں سے لوگ عالمی انٹرنیٹ سے کٹے ہوئے ہیں۔ یہ رکاوٹ 1176 گھنٹوں سے زیادہ وقت سے جاری ہے، جس سے لوگوں کے کام، رابطوں اور روزمرہ کی زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *