
نئی دہلی: قانون ساز اداروں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے سے متعلق 131ویں آئینی ترمیمی بل 2026 لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا، جس کے باعث بل منظور نہیں ہو پایا۔
دو روزہ تفصیلی بحث اور وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب کے بعد ہونے والی ووٹنگ میں بل کے حق میں 298 جبکہ مخالفت میں 230 ووٹ پڑے۔ اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق بل کو منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی، جو حاصل نہیں ہو سکی۔
حکومت کو اس بل کی منظوری کے لیے کم از کم 360 ارکان کی حمایت درکار تھی، تاہم اسے صرف 298 ووٹ ہی مل سکے۔ بل کی ناکامی کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ترمیمی بل واپس لینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک تاریخی موقع ضائع کیا، تاہم حکومت اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
