ذرائع کے مطابق کیر اسٹارمر جمعہ کی صبح پیرس پہنچیں گے، جہاں وہ ایمانوئل میکروں کے ساتھ اس اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ جرمن حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مشن میں شمولیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے لیے واضح قانونی بنیاد موجود ہو۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں کمرشل جہاز رانی کو بحال کرنے، بارودی سرنگوں کی صفائی کے آپریشنز اور بحری نگرانی جیسے اقدامات پر زور دیا جائے گا، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے۔
