
نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کے اعلان کے بعد امریکی بحریہ نے ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والی تمام کشتیوں کو روکنا شروع کر دیا ہے۔
ہندوستانی وقت کے مطابق پیر کی رات 7:30 بجے سے یہ محاصرہ نافذ ہو گیا۔ اس کے لیے امریکی بحریہ نے بڑی تعداد میں اپنی فوج تعینات کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور باہر آنے والی تمام ممالک کی کشتیوں کو آبنائے ہرمز پر روکا جائے گا۔
تاہم، ایران کے علاوہ دیگر بندرگاہوں کی طرف جانے والی کشتیوں کو زیادہ متاثر نہیں کیا جائے گا۔اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے یہ کارروائی شروع کی ہے۔ دوسری طرف ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا گیا
تو سنگین نتائج ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی 158 کشتیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور وہ اب سمندر کی تہہ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو ابھی تک نشانہ نہیں بنایا گیا
کیونکہ انہیں بڑا خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم، اگر وہ کشتیوں امریکہ کے نافذ کردہ محاصرے کی طرف آئیں گی تو انہیں فوراً تباہ کر دیا جائے گا۔انہوں نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ سمندری راستے سے امریکہ میں آنے والی منشیات کو 98.2 فیصد تک روک دیا گیا ہے
اور جس طرح منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے اسی طرح ایران کی کشتیوں کے ساتھ بھی برتاؤ کیا جائے گا۔
