تعلیمی حلقوں میں اس حملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مورخ نرجس رحمتی نے کہا کہ شریف یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، جہاں ہر سال پانچ لاکھ طلبہ میں سے صرف 0.16 فیصد یعنی تقریباً 800 طلبہ کو داخلہ ملتا ہے۔
اسی طرح جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ولی نصر نے کہا، ’’شریف یونیورسٹی ایران میں جدیدیت اور ترقی کی علامت ہے۔ اس کے فارغ التحصیل طلبہ عالمی سطح پر نمایاں ہیں۔ اس نوعیت کی تباہی کا مقصد صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ پورا ایران ہو سکتا ہے۔‘‘
فرانسیسی مبصر ارنو برٹرینڈ نے اس واقعے کو انسانیت کے خلاف حملہ قرار دیتے ہوئے کہا، ’’واضح رہے کہ عالمی معیار کی جامعات کو تباہ کرنا صرف ایران پر حملہ نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ ہے۔ جب مریم میرزاخانی نے فیلڈز میڈل حاصل کیا تو یہ پوری انسانیت کی کامیابی تھی، نہ کہ کسی ایک ملک کی۔‘‘
