
نئی دہلی : ایران کے سپریم رہنما مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے بلاجواز حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے سب کو بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ڈے کے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے یہ پیغام دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کی جاری “گھٹیا” اور جارحانہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے نہ صرف ایران کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے بلکہ ماحولیات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب ملک کے اندرونی ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کی جائے اور ایران کے روشن مستقبل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر انہوں نے ایران کے علاقے میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کا خاص طور پر ذکر کیا جس میں 186 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے ان افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شہری اور دیہی علاقوں میں درخت لگانے کی مہم میں سب کو حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں جان گنوانے والوں کی یاد میں ایرانی عوام درخت لگائیں گے۔
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بار دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنے کے
باوجود ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا ڈٹ کر اور بہادری سے جواب دے رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ امریکی حکومت واقعی “امریکہ فرسٹ” کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے؟
