راہل گاندھی نے اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وفد کے مسائل کو بغور سنا اور انہیں ایک بار پھر وہی حقیقت نظر آئی جس کا وہ پہلے بھی اظہار کرتے رہے ہیں، یعنی اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر بہوجن طبقات کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق پالیسی سطح پر ایسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے ترقی کے مواقع محدود کر دیے جاتے ہیں۔
وفد کے اراکین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کبھی کارکردگی اور کبھی میرٹ کا حوالہ دے کر ان کی ترقی روک دی جاتی ہے، حالانکہ یہ جواز اکثر بے بنیاد ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی ملازم اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو سزا کے طور پر اس کا دور دراز علاقوں میں تبادلہ کر دیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف اس کی پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ذاتی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔
