ایرانی حملوں میں درجنوں ہلاکتیں اور ہزاروں زخمی، صہیونی میڈیا نے محدود اعداد و شمار جاری کردیے

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی میڈیا اور تحقیقاتی مراکز کے محدود اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے حملوں کے آغاز سے اب تک مقبوضہ علاقوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 5000 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ سخت سنسرشپ کے باعث اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

ایک صہیونی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسرائیل نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری سے شروع ہونے والے جوابی حملوں کے دوران ایران نے مقبوضہ علاقوں کی طرف 550 سے زائد میزائل اور 765 سے زیادہ ڈرون فائر کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں کے بعد متعدد شہروں میں بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی بھی کی گئی۔  

اعداد و شمار کے مطابق تل ابیب میں 1515 افراد کو منتقل کیا گیا۔ ڈیمونا میں تقریباً 975 افراد، عراد میں 600 افراد، بئرشبع میں 505 افراد اس کے علاوہ بیت شمش سے 650، بنی براک سے 160، راملا سے 80، گیواتایم سے 75 اور رامات گان سے 45 افراد کو نکالا گیا، جبکہ شمالی علاقے کے عرب شہر زرزیر سے بھی 70 افراد کو منتقل کیا گیا۔

مزید برآں کریات شمونہ، تیرات کارمل، امق حفر، ہولون اور کفر قاسم سمیت مختلف علاقوں سے بھی درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کشیدگی بڑھنے کے دوران صہیونی کابینہ شہریوں کو اپنے خرچ پر ایلات کے ہوٹلوں میں منتقل کر رہی ہے۔

دوسری جانب تازہ ایرانی میزائل حملوں میں تل ابیب میں متعدد اسرائیلیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔  

صہیونی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایران کے داغے گئے ایک کلسٹر میزائل کے ٹکڑوں کے گرنے سے یہ واقعات پیش آئے، جبکہ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق میزائل کے ٹکڑے تل ابیب، رمت گن اور گفعاتایم کے کم از کم 10 مختلف مقامات پر گرے، جس کے نتیجے میں سڑکوں، عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *