عالمی معیشت خطرے میں! توانائی ایجنسی کا بڑا انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے اعلان کیا ہے کہ ادارہ ایشیائی اور یورپی حکومتوں کے ساتھ اس بات پر مشاورت شروع کر چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر تیل کے اسٹریٹجک ذخائر سے مزید مقدار جاری کی جا سکے۔ یہ اقدام ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ایجنسی کے رکن ممالک نے 11 مارچ کو عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے اعلان کیا تھا کہ وہ قیمتوں میں اضافے کے بحران سے نمٹنے کے لیے تقریباً 400 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ذخائر سے جاری کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

فاتح بیرول نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران کو نہایت شدید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال 1970 کی دہائی کے دو بڑے تیل بحرانوں سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اثرات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ بھی عالمی تیل کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کے دوران 40 سے زائد توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث عالمی معیشت کو بڑے خطرے کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا اہم ترین حل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی کوششوں کے باوجود آج بھی خام تیل کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا اور ایک ڈالر اضافے کے بعد قیمت 113 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *