
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: گذشتہ کئی دنوں سے سفاک اور شیطان صفت بنیامین نتن یاہو کی منظر عام سے غیر حاضری نے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جنم دی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں حکومتی سرگرمیاں مسلسل میڈیا کی نظر میں رہتی ہیں، کسی بڑے رہنما کے اچانک منظر عام سے غائب ہونے خود بخود سوالات جنم لیتے ہیں۔ ملعون نتن یاہو کے بارے میں بھی افواہیں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ بعض حلقوں میں نتن یاہو کے واصل جہنم ہونے کی خبریں گردش کررہی ہیں۔
ان افواہوں کے درمیان گزشتہ روز ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں نتن یاہو کو گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بظاہر یہ ویڈیو ان کے زندہ کا ثبوت پیش کرنے کے لیے تھی، تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔ مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کے بارے میں دعوی کیا کہ یہ ممکنہ طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ اس دعوے کی بنیاد ویڈیو کے چند ایسے بصری نقائص ہیں جو عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فریم میں ہاتھ کی ساخت غیر معمولی نظر آئی جہاں چھ انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں، جس نے شکوک کو مزید تقویت دی۔
اس سے اگرچہ ظاہری طور پر ملعون نتن یاہو کی موت کی خبریں تقویت اختیار کرگئی ہیں تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امکان بھی خارج از امکان نہیں کہ اس طرح کی صورتحال کسی سوچے سمجھے نفسیاتی یا میڈیا حربے کا حصہ ہو۔ جدید دور میں ریاستیں صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ میڈیا اور اطلاعات کی جنگ میں بھی سرگرم ہوتی ہیں، اور عوامی رائے کو متاثر کرنا ایک اہم حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔
نتن یاہو کی موت کی خبر کے اثرات فوری طور پر عوامی نفسیات پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسرائیل جیسے معاشرے میں، جہاں رہنماؤں اور اہم تنصیبات کی سیکورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، ایسی خبر مایوسی اور بے یقینی کو جنم دے سکتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے مخالف حلقوں اور مقاومت کے حامیوں میں ایسی خبریں وقتی خوشی اور امید کا باعث بن سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں بعض مبصرین یہ امکان بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر پہلے مرحلے میں افواہیں پھیلنے دی جائیں اور عالمی سطح پر یہ تاثر قائم ہوجائے کہ خونخوار نتن یاہو منظر سے ہٹ چکا ہے، تو بعد میں اس کی اچانک واپسی ایک مضبوط نفسیاتی اثر پیدا کرسکتی ہے۔ ایسی واپسی اسرائیلی معاشرے میں نئی امید اور حوصلہ پیدا کرسکتی ہے، جبکہ وہ حلقے جو پہلے اس خبر پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے، اچانک مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ایک ہی واقعے کو داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر نفسیاتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تاہم اس وقت حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور اطلاعاتی جنگ کے باعث خبر اور افواہ کے درمیان فرق پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ کسی بھی خبر یا ویڈیو پر یقین کرنے کے لئے مستند ذرائع اور قابل اعتماد شواہد کا انتظار کیا جائے۔
