
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے صہیونی وزیر خارجہ گیدئون ساعر سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوسکتا۔
چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، بیجنگ ہمیشہ حساس بین الاقوامی اور علاقائی مسائل کو مذاکرات اور سفارتی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا آیا ہے۔
وانگ یی نے زور دیا کہ فریقین کو اقوام متحدہ کے منشور کے اہداف اور اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہی راستہ سب کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے ایران کے جوہری معاملے پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین طویل عرصے سے اس مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جنگ کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔
وانگ یی نے مزید کہا کہ چین ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے۔ عسکری طاقت کی حقیقی قدر میدان جنگ میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں ہوتی ہے۔ انہوں نے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے اور کشیدگی کو بے قابو ہونے سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بیجنگ مشرق وسطی کے معاملے میں منصفانہ اور غیر جانب دار مؤقف رکھتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
