غاصب صہیونی حکام کا ایران کی سائنسی میدان میں برتری کا اعتراف

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کی منصوبہ بندی و بجٹ کمیٹی کے سربراہ عمی موئیل نے ایران اور اسرائیل کے نظام اعلیٰ تعلیم کے درمیان موجود نمایاں فرق کا اعتراف کیا ہے۔

موئیل کے مطابق ایران ہر سال تقریباً 2 لاکھ 34 ہزار طلبہ کو انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم دیتا ہے، جو اسرائیل کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، کیونکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انجینئرنگ کے طلبہ کی سالانہ تعداد 7 ہزار سے تجاوز نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فرق سائنسی مقالات کی اشاعت میں بھی واضح ہے۔ اسرائیل میں سالانہ تقریباً 22 ہزار 700 سائنسی مقالات شائع ہوتے ہیں، جبکہ ایران میں یہ تعداد 71 ہزار 900 تک پہنچتی ہے۔

یہ بیانات صہیونیستی پارلیمنٹ میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق ذیلی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے دوران سامنے آئے۔

دوسری جانب صہیونی پارلیمنٹ کی رکن نعما لازیمی نے 2023 کے دوران اسرائیل سے تعلیمی شخصیات اور ڈاکٹروں کی وسیع پیمانے پر ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان ایک منفی ریکارڈ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ بیرون ملک جانے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیر تربیت ڈاکٹر بہتر حالات کی وجہ سے بیرون ملک ہجرت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *