اقوام متحدہ کی یوکرین قرارداد دیرپا امن کو فروغ نہیں دیتی، تہران

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مشن نے 24 فروری 2026 کو نیویارک میں گیارہویں ہنگامی خصوصی اجلاس کے 23 ویں اجلاس کے دوران یوکرین جنگ سے متعلق قرارداد پر منفی ووٹ کی وضاحت پیش کی۔

ایرانی نمائندے نے 2022 سے تہران کے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق، تنازعات کے پرامن حل اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے تصفیے کا اصولی حامی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام رکن ممالک کو خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کا مکمل احترام کرنا چاہیے اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے۔

ایرانی مندوب نے یوکرین میں دیرپا امن کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مستقل حل کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات کا ازالہ ضروری ہے، جن میں بعض ممالک اور شمالی اٹلانٹک دفاعی معاہدے کے اشتعال انگیز اقدامات اور فیصلے شامل ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان بنیادی عوامل کو شامل نہیں کیا گیا اور اسے غیر مناسب وقت پر اور شفاف پیشگی مشاورت کے بغیر پیش کیا گیا۔ ایرانی نمائندے نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ قرارداد اختلافات کو مزید گہرا کر سکتی ہے اور دیرپا امن کے بجائے جغرافیائی سیاسی رقابتوں کو تقویت دے سکتی ہے۔

ایران نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں کسی بھی فریق کی حمایت کے الزامات کو بھی سختی سے مسترد کیا۔

قرارداد مغربی ممالک کی حمایت سے 107 ووٹوں کے ساتھ منظور ہوئی، 12 نے مخالفت کی اور 51 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ ریاستہائے متحدہ نے حصہ نہیں لیا جبکہ روس نے مخالفت کی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *