
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوڈانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے مشیر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی تجویز کا پیش کیا جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ حکومت اسے قبول بھی کر لے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے کسی بھی منصوبے میں سوڈان کی قومی سلامتی، مکمل خودمختاری، علاقائی وحدت، ریاستی اداروں کے اتحاد اور جغرافیائی سالمیت کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔ جو تجویز ان اصولوں کو نظر انداز کرے گی، اسے حکومت قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی اس پر عمل درآمد ممکن ہوگا۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوڈان ایک خودمختار ملک ہے اور اپنے فیصلے قومی مفاد کی بنیاد پر خود کرتا ہے۔ دوسری جانب نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز نے امریکی تجویز پر کوئی مؤقف جاری نہیں کیا ہے۔
امریکی ایلچی کا دعوی ہے کہ امریکہ ایک جامع سیاسی عمل شروع کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کو جنگ بندی کی حتمی تجویز فراہم کی جاچکی ہے۔
امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات نے مل کر ایک گروپ بنایا ہے جو سوڈان میں جنگ روکنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن کچھ لوگوں کے مطابق ان ممالک پر سوڈان کے حالات خراب کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
ستمبر 2025 میں اس چہار رکنی گروپ نے تین ماہ کی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی، جسے مستقل جنگ بندی کی جانب پہلا قدم قرار دیا گیا۔ منصوبے کے مطابق اس کے بعد نو ماہ پر مشتمل عبوری عمل شروع ہونا تھا، جس کے نتیجے میں ایک آزاد سویلین حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جاتی۔
یاد رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان مسلح تصادم جاری ہے۔ اس جنگ نے ملک کو شدید انسانی بحران میں مبتلا کردیا ہے، جسے دنیا کے بدترین بحرانوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ وسیع علاقوں میں قحط کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تقریبا ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔
