ایران کا صیاد جی-3 میزائل: بحری دفاعی صلاحیت میں اہم اضافہ

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران نے سمندری دفاعی میزائل صیاد جی-3کا عملی تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں جاری فوجی مشقوں کے دوران کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائل پہلی بار “اسمارٹ کنٹرول آف آبنائے ہرمز” نامی فوجی مشق کے دوران فائر کیا گیا۔ یہ نیا نظام زمین سے فائر ہونے والے صیاد جی-3 میزائل کا نیا ورژن ہے، جسے بحری آپریشنز کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ جنگی بحری جہازوں کے لیے ملٹی لیئر فضائی دفاعی چھتری کو مضبوط بنایا جاسکے۔

میزائل کو جنگی جہازوں پر نصب ورٹیکل لانچ سسٹم (VLS) سے فائر کیا جاتا ہے، جس کی بدولت فوری ردعمل اور 360 ڈگری زاویہ میں فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ سسٹم بحری بیڑے کو درمیانے فاصلے تک فضائی حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

حکام کے مطابق صیاد 3-G میزائل کا آپریشنل دائرہ تقریباً 150 کلومیٹر بتایا جاتا ہے، جو سمندر میں ایرانی بحری اثاثوں کے گرد ایک وسیع حفاظتی حصار قائم کرنے میں مدد دے گا۔ یہ پیش رفت خطے میں فوجی طاقت کے توازن اور بحری دفاعی حکمت عملی میں اہم اضافہ سمجھی جارہی ہے۔

سمندری دفاعی نظام کی توسیع

یہ نظام مختلف فضائی خطرات کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جن میں جنگی طیارے، بحری گشتی طیارے اور بلند پرواز کرنے والے بغیر پائلٹ ڈرون شامل ہیں۔ یہ میزائل بحری کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کے ساتھ مربوط ہوکر کام کرسکتا ہے اور میزبان جہاز کے ریڈار سسٹم کو بھی استعمال کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے آزادانہ طور پر ہدف کا پتہ لگانے اور ٹریک کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے، جس سے پیچیدہ سمندری ماحول میں اس کی عملی لچک بڑھ جاتی ہے۔

صیاد میزائل سسٹم پہلے بھی ایران کے زمینی فضائی دفاعی نظاموں میں استعمال ہوچکا ہے۔ اس کا تیسرا اور بحری ورژن سمندری حالات کے مطابق تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، تاکہ یہ متحرک سمندری پلیٹ فارمز پر بھی مؤثر طریقے سے کام کرسکے۔

اس نظام کو جنگی بحری جہازوں، خاص طور پر شہید سلیمانی کلاس کے جنگی جہازوں پر نصب کیا جاسکتا ہے جس سے ایرانی بحری دفاع مزید مضبوط ہوگا اور ایرانی سمندری اثاثوں کے گرد فضائی دفاع کی تہوں میں مزید وسعت آئے گی۔

آبنائے ہرمز میں اسٹریٹجک آزمائش

اس میزائل کا تجربہ آبنائے ہرمز میں کیا گیا، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس مقام پر عملی آزمائش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اپنے گرد و نواح کے سمندری علاقوں میں سلامتی اور دفاعی تیاری کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق صیاد 3-جی میزائل کی آزمائش ملکی سطح پر تیار کردہ مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کی ترقی کا ایک اور مرحلہ ہے۔ یہ نظام حالیہ برسوں میں وسعت اختیار کرچکا ہے اور اب اس میں زمینی اور بحری دونوں شعبے شامل ہیں، جس کے ذریعے ایران اپنے دفاعی ڈھانچے کو زیادہ جامع اور ہم آہنگ بنا رہا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *