مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر بار بار کہتے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہے۔ دنیا کی سب سے مضبوط فوج بھی کبھی ایسا دھچکا کھا سکتی ہے کہ دوبارہ کھڑی نہ ہو سکے۔ وہ مسلسل کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری جہاز بھیجا ہے۔ ٹھیک ہے، بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک چیز ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس جہاز کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ 47 برس سے امریکہ اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا اور اس بات کی شکایت اپنے عوام سے کی۔ 47 برس سے امریکہ اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا۔ یہ ایک اہم اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تم آئندہ بھی یہ کام نہیں کر سکو گے۔
رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہای نے آج صبح آذربائیجانِ شرقی کے عوام سے ملاقات میں کہا کہ دی ماہ کے واقعات میں بہائے گئے خون پر قوم غمزدہ اور سوگوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ خون زمین پر بہایا گیا۔ ہم غمزدہ ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جو خون بہایا گیا ہم اس پر سوگوار ہیں۔ کچھ لوگ خود وہی بدعنوان، ہنگامہ برپا کرنے والے اور بغاوت کرنے والے تھے، کچھ ایسے تھے جنہیں موت نے مہلت نہ دی اور وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے، ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے، ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن ایک اور گروہ بھی تھا جو ان میں شامل نہیں تھا۔ تین گروہ تھے، تین طبقے۔ میں مارے جانے والوں اور جان گنوانے والوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایک گروہ وہ تھا جو ملک کے امن اور نظام کے تحفظ کے لیے کام کر رہا تھا، چاہے وہ پولیس اہلکار ہوں، بسیج اور سپاہ کے ارکان ہوں یا وہ افراد جو ان کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ شہید ہو گئے اور یہ برترین شہداء میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ پہلا گروہ ہے۔
انہوں نے دوسرے گروہ کو راہگیروں پر مشتمل قرار دیا اور کہا کہ جب شہر کے اندر ہنگامہ برپا ہوتا ہے تو صرف وہ لوگ ہلاک نہیں ہوتے جو براہِ راست مقابلے میں ہوں، بلکہ بے گناہ لوگ بھی سڑک پر اپنے کام یا گھر کی طرف جاتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ ان میں سے بھی کچھ جان سے گئے۔ یہ بھی شہید ہیں کیونکہ وہ دشمن کے ہنگامے کے دوران مارے گئے۔ گولی جہاں سے بھی آئی ہو، یہ واقعہ دشمن کے ہنگامے میں پیش آیا اور یہ بھی شہید ہیں۔
تیسرے گروہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو دھوکے میں آ گئے، سادگی دکھائی اور ہنگامہ کرنے والوں کے ساتھ ہو لیے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بھی ہم میں سے ہیں۔ وہ بھی ہمارے اپنے ہیں۔ ان میں سے بعض بعد میں پشیمان ہوئے، بعض نے مجھے خط لکھا کہ ہم اس دن سڑک پر آئے تھے اور ایسا اور ویسا کیا، ہمیں معاف کریں۔ وہ جیل میں نہیں تھے، آزاد تھے۔ انہوں نے پشیمانی ظاہر کی، غلطی کی۔ ان میں سے جو مارے گئے انہیں بھی حکام نے شہید قرار دیا، یہ درست اقدام تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح ہمارے جانباختگان کا دائرہ جنہیں ہم شہید شمار کرتے ہیں وسیع ہے۔ ہنگامے کے سرکردہ عناصر اور وہ لوگ جنہوں نے دشمن سے پیسہ یا اسلحہ لیا، ان کے علاوہ باقی سب، چاہے وہ امن کے محافظ ہوں یا وہ افراد جو چند قدم ہنگامہ کرنے والوں کے ساتھ چلے، سب ہمارے فرزند ہیں۔ ہم ان کے لیے رحمت اور بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ انہوں نے غلطی کی، اللہ تعالیٰ ان کی غلطی معاف فرمائے۔
