نئے قوانین کی مخالفت کر رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایکویٹی کمیٹی میں جنرل کیٹیگری کے لیے کوئی لازمی نمائندگی طے نہیں کی گئی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ جب کمیٹی امتیازی سلوک کی شکایتوں کی جانچ کرے گی، تو جنرل کیٹیگری کے طلبہ اور اساتذہ کو مناسب نمائندگی کے بغیر ایک طرفہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ قوانین اس مفروضے پر مبنی معلوم ہوتے ہیں کہ ایک طبقہ ہمیشہ مظلوم ہے اور دوسرا طبقہ ہمیشہ ظالم۔ اس سے تعلیمی کیمپس میں بے اعتمادی کا ماحول بن سکتا ہے۔ اعلیٰ ذاتوں کی کئی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنرل کیٹیگری کے طلبہ اور اساتذہ کو جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایات کے ذریعے ہراساں کیا جا سکتا ہے۔
’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا‘، یو جی سی تنازعہ پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان
