کمیشن نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ ملک گیر ایس آئی آر 1962-66، 1983-87، 1992-93، 2002 اور 2004 کے دوران کیے جا چکے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ موجودہ عمل اسی آئینی مینڈیٹ کا تسلسل ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعے حقیقی ووٹروں کے حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ یہ الزامات ’غلط ہیں اور مکمل طور پر مسترد کیے جاتے ہیں‘۔
’عجیب طریقۂ کار‘ کے تحت ہو رہا ہے بنگال میں ایس آئی آر؟
