قم المقدسہ میں پاکستانی عالم دین کی خدمات کے اعتراف میں تقریب

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سلسبیل فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام گلگت بلتستان کی ممتاز دینی، سماجی اور سیاسی شخصیت حجت الاسلام والمسلمین علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ کی 38ویں برسی کے موقع پر قم میں ایک علمی سیمینار منعقد ہوا جس میں علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ کی ہمت جہد شخصیت اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

سیمینار میں قم میں مقیم گلگت بلتستان کے علما، طلاب، محققین اور زائرین نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی گلگت بلتستان کے نوجوان محقق و شاعر جناب تہذیب الحسن تھے۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبولؐ اور مولائے کائنات حضرت علیؑ کی منقبت سے ہوا۔ استادِ حوزہ حجت الاسلام والمسلمین شیخ فدا علی حلیمی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ مہمانِ خصوصی تہذیب الحسن نے اپنے خطاب میں علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ کی حیاتِ طیبہ، علمی خدمات اور سماجی و سیاسی جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔

اُنہوں نے اپنی فکری بصیرت، قائدانہ صلاحیت اور عملی جدوجہد کے ذریعے گلگت بلتستان کی دینی، سماجی اور سیاسی تاریخ میں گہرے نقوش ثبت کیے۔ علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ حوزۂ علمیہ نجف اشرف سے فارغ التحصیل تھے اور بلتستان کے نامور اساتذہ و مدرسین میں شمار ہوتے تھے۔ اُنہوں نے بلتستان میں پہلی اور سب سے بڑی لائبریری قائم کی جس میں نو ہزار سے زائد دینی و عصری کتب موجود تھیں۔ جنگِ آزادیِ گلگت بلتستان کے دوران کھرمنگ میں مجاہدین کو راشن سپلائی کرنے میں اُن کا کردار اہم رہا جس کے اعتراف میں اُنہیں اعلیٰ سند و اعزاز سے نوازا گیا۔ علامہ شیخ غلام حیدر خطے میں پہلی مرتبہ شرعی عدالت کے قیام کے بانی بھی تھے اور عدالتی فیصلوں کے لیے اُنہیں نجف اشرف اور ایران کے جید آیاتِ عظام کی جانب سے اجازت نامے حاصل تھے۔ سیاست کے میدان میں قدم رکھ کر اُنہوں نے عوامی حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔1961ء اور 1967ء کے یونین کونسل کے انتخابات میں دو مرتبہ یونین کونسل پرکوتہ کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1968ء میں صدر جنرل یحییٰ خان کو خط ارسال کر کے گلگت بلتستان میں عوامی پہلی نمائندہ کونسل (بنیادی اسمبلی) کے قیام کا مطالبہ کیا۔ 1979ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے صدارتی اجلاس میں نہ صرف کے لیے گلگت بلتستان کی نمائندگی کی بلکہ کونسل کی تشکیل سے متعلق بنیادی نکات بھی پیش کیے۔

علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ ایک جلیل القدر عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بصیرت افروز مُفکر، مؤثر خطیب اور عظیم سماجی رہنما بھی تھے۔ سماجی سطح پر اُن کی بےلوث خدمات آج بھی اہلِ علاقہ میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا گیا کہ علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ کی حیات و خدمات پر مبنی نوجوان محقق تہذیب الحسن کی تحقیقی تصنیف اسی سال شائع کی جائے گی۔ چار سال پر محیط اس تحقیقی کام میں تحقیق کے تمام مسلمہ اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے اور تاریخی دستاویزات کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ 

سیمینار کی صدارت حجت الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر سید عباس الموسوی نے کی۔

اُنہوں نے اپنے خطبۂ صدارت میں مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی دینی سماجی اور سیاسی خدمات کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ سیمینار کے اختتام پر علامہ شیخ غلام حیدر بلتستانیؒ کی علمی و فکری میراث کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *