مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کے روز وینزویلا میں ایرانی سفیر علی چگنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ایرانی سفارت خانے کو بند کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ کراکس میں سفارتی مشن پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
چگنی نے یہ بھی بتایا کہ سفارت خانے کا تمام عملہ بخیریت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا میں موجود ایرانی شہری بھی محفوظ ہیں، اور سفارت خانہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور انہیں خدمات و امداد فراہم کرنے میں پوری طرح مصروف ہے۔
یاد رہے کہ مہینوں کی دھمکیوں اور دباؤ کے بعد، امریکہ نے ہفتے کے روز وینزویلا پر بمباری کی اور اس کے صدر مادورو کا تختہ الٹ دیا، جنہیں گرفتار کر کے نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ مادورو ہفتے کی شام کراکس میں امریکی افواج کے ہاتھوں اپنے اغوا کے بعد ایک امریکی فوجی اڈے پر پہنچے۔
وینزویلا کی نائب صدر روڈریگز نے مادورو کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہی وینزویلا کے واحد صدر ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا پر حکمرانی کرے گا اور اس کے تیل کے وسیع ذخائر کا استعمال کرے گا، تاہم انہوں نے اس بارے میں تفصیلات نہیں دیں کہ امریکہ یہ سب کیسے کرے گا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اس معاملے پر پیر کو اجلاس متوقع ہے، جبکہ سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹرس نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات نے ایک خطرناک مثال قائم کر دی ہے۔
