
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے مزاحمتی بلاک کے فلسفے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمت ایک ایسی فکر اور اسکول آف تھاٹ ہے جو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ناجائز مطالبات اور سامراجی دھونس کے خلاف ایک دیوار بن کر ابھری ہے۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ آج مزاحمت کا یہ بیانیہ خطے کے گوشے گوشے میں زندہ اور جاوید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کچھ حکومتیں اسے زیادہ اہمیت دیں اور کچھ کم، لیکن مختصر یہ کہ خطے کے لوگوں کے افکار اور رائے عامہ اس مکتبِ فکر پر بھرپور توجہ دیتی ہے، اس نصب العین پر یقین رکھتی ہے اور اسی راہ کو جاری رکھے گی۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ مزاحمت کی تشکیل ہی ان لوگوں کے جواب میں ہوئی جو دوسروں پر اپنا حکم چلانا چاہتے ہیں یا سرزمینوں پر قابض ہو کر عوام کے حقوق غصب کرتے ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان مزاحمتی قوتوں کے فکری اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
تہران کا ماننا ہے کہ یہ نظریہ اب کسی ایک گروہ یا ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک عالمگیر تحریک بن چکا ہے جس کا مقابلہ کرنا کسی بھی عالمی طاقت کے لیے ممکن نہیں۔
