صہیونیوں کی اخلاقی دیوالیہ پن؛ اقوام متحدہ کے امدادی ادروں پر پانی اور بجلی بند کر دی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی پارلیمنٹ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے  کے خلاف ایک نیا محاذ کھولتے ہوئے اس کے دفاتر کی بجلی اور پانی کاٹنے کے بل کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں دو سال سے جاری وحشیانہ جنگ کے بعد فلسطینی عوام کو انسانی بنیادوں پر امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ آنروا فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی مدد کر رہی ہے اور اسے حماس کا ایک ایگزیکٹو ونگ قرار دیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس طرح کے الزامات کے ذریعے لاکھوں پناہ گزینوں تک پہنچنے والی خوراک، ادویات اور تعلیمی سہولیات کو روکنا چاہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاتر کی بجلی اور پانی کاٹنے سے امدادی کارکنوں کے لیے کام کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس کا براہِ راست اثر غزہ کے ان لاکھوں متاثرین پر پڑے گا جو زندہ رہنے کے لیے مکمل طور پر اقوامِ متحدہ کی امداد پر منحصر ہیں۔ صیہونی ریاست کا یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے بھوک اور پیاس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر آنروا کی خدمات معطل ہوئیں تو خطے میں انسانی المیہ بے قابو ہو سکتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *