
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کے اعلی حکام نے امریکہ کی جانب سے پانچ یورپی شخصیات پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان پابندیوں میں سابق یورپی کمشنر تھیری بریٹن بھی شامل ہیں۔
یورپی رہنماؤں نے واشنگٹن پر دباؤ اور دھمکیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے اُن نمایاں یورپی شخصیات کے ویزے منسوخ کیے جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ضابطوں کا پابند بنانے کی مہم میں سرگرم کردار ادا کر رہی تھیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، منگل کے روز ویزا پابندیاں تھیری بریٹن پر عائد کی گئیں جو یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں، اس کے علاوہ چار ایسے کارکن بھی پابندیوں کی زد میں آئے جو غلط معلومات کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں، جن میں دو جرمنی اور دو برطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
دیگر افراد میں امریکہ میں قائم ادارے سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ کے برطانوی چیف ایگزیکٹو عمران احمد، جرمن ادارے ہیٹ ایڈ سے وابستہ انا لینا فان ہوڈن برگ اور جوزفین بالون، اور گلوبل ڈس انفارمیشن انڈیکس کی شریک بانی کلیئر میلفورڈ شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان پابندیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ طویل عرصے سے یورپ میں بعض نظریاتی حلقے منظم انداز میں امریکی پلیٹ فارمز پر دباؤ ڈال رہے تھے تاکہ ان امریکیوں کو سزا دی جائے جن سے وہ اختلاف رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے بیرونی سنسرشپ کے اقدامات کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔
