احمد آباد طیارہ حادثہ: چھ ماہ بعد بھی سوال برقرار، متاثرہ خاندانوں کے وکیل نے بیان کی تحقیقات کی پیش رفت

امریکی وکیل نے بتایا کہ حال ہی میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کے تفتیش کار نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے ساتھ واشنگٹن میں کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ ابتدائی طور پر بعض حلقوں میں حادثے کے حوالے سے خودکشی کے امکان پر بھی بات کی گئی تھی، جس پر وہ ابتدا سے ہی مطمئن نہیں تھے۔

اینڈریو نے کہا کہ اگر کاک پٹ وائس ریکارڈر میں سب کچھ بالکل واضح ہوتا تو تفتیش کاروں کو ڈیٹا دیکھنے کے لیے واشنگٹن جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے طیارے میں ممکنہ برقی خرابی (الیکٹریکل پرابلم) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریم ایئر ٹربائن (آر اے ٹی) کا ٹیک آف کے فوراً بعد فعال ہو جانا معمول کی بات نہیں ہے اور یہ کسی اندرونی خرابی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *