کمیشن نے مسودہ فہرست کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ تقریباً 4.33 لاکھ ووٹروں کے نام دو سے لے کر 103 بار تک دہرا کر درج ہیں۔ ان بار بار کی گئی اندراجات کو ملا کر کل ڈپلیکیٹ اندراجات کی تعداد 1101505 تک پہنچتی ہے، جسے انتخابی شفافیت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
افسران کے مطابق اس صورتِ حال کی وجہ متعدد عوامل ہو سکتے ہیں، جن میں ووٹنگ علاقے کی تبدیلی کے بعد پرانے ریکارڈ حذف نہ ہونا، نام یا پتے کی املا میں فرق، شناختی دستاویزات کی بنیاد پر الگ الگ رجسٹریشن اور ممبئی جیسے میٹرو شہر میں بڑے پیمانے پر ہجرت اور کرایہ داری کا بڑھنا شامل ہیں۔
