
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے ایک غیر معمولی دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں اسرائیل کی خفیہ انٹیلی جنس سرگرمیوں اور نیوکلیئر منصوبوں کی تفصیلات بے نقاب کی گئی ہیں۔ یہ فلم “Spider’s Hideout” کے عنوان سے نشر کی گئی، جس نے موساد کے خفیہ آپریشنز کی دنیا میں پہلی بار جھانکنے کا موقع فراہم کیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران نے ایک بار پھر اسرائیل کے ہتھیاروں اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا پردہ چاک کر دیا۔ اس بار وہ اسرائیلی حکام اور ان کے اتحادی نشانہ بنے جو کئی دہائیوں سے تل ابیب کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخیرے اور تباہ کن طاقت کے حصول کی مذموم کوششوں کو چھپاتے رہے ہیں۔
ایران کے وزیر انٹیلیجنس اسماعیل خطیب نے ٹی وی پر بتایا کہ ایران نے اسرائیل کی قیادت اور ان کی ناکام کوششوں سے متعلق اہم راز کھولے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات کی جانب سے پیش کردہ معلومات میں لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات شامل ہیں، جن میں اسرائیل کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے منصوبے، پرانے ہتھیاروں کی تجدید، اور امریکہ و یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کی تفصیلات شامل ہیں۔
وزیر نے وضاحت کی کہ یہ ذخیرہ نہ صرف ماضی کے منصوبوں بلکہ جاری سرگرمیوں، اپ گریڈنگ کی کوششوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر بھی مشتمل ہے۔
ایران نے 189 اعلی سطح کے اسرائیلی نیوکلیئر اور عسکری ماہرین کی شناخت کی ہے، جن کے آپس کے روابط اور ذمہ داریوں کو بہت ہی تفصیل اور باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔
دستاویزی فلم میں ان افراد کی تصاویر اور شناختی کارڈز بھی دکھائے گئے جو اسرائیل کے ہتھیاروں کے پروگرام میں سرگرم ہیں جن میں سے کئی افراد کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ وہ کیمرے کی زد میں آچکے ہیں۔
وزیرِ اطلاعات نے خاص طور پر واضح کیا کہ جو فہرست منظر عام پر لائی گئی ہے، وہ ایران کے پاس موجود مکمل معلومات کا صرف ایک حصہ ہے۔ مستقبل میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔
