فیڈرل ریزرو میں ٹرمپ کی مداخلت کو عدالت نے کیا رد، لیزا کک کا عہدہ محفوظ

یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی صدر نے 1913 میں قائم ہونے والے فیڈرل ریزرو کے کسی گورنر کو برطرف کرنے کی کوشش کی ہو۔ عدالت نے 2-1 کے تناسب سے فیصلہ سنایا۔ جج برڈلی گارسیا اور جے مشیل چائلڈز، جنہیں سابق صدر جو بائیڈن نے نامزد کیا تھا، نے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دیا، جبکہ ٹرمپ کے مقرر کردہ جج گریگری کیٹساس نے اختلافی رائے دی۔

قانونی پہلوؤں کے اعتبار سے یہ معاملہ غیر معمولی ہے۔ فیڈرل ریزرو کے قیام کے وقت کانگریس نے واضح کیا تھا کہ گورنروں کو سیاسی اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ قانون کے مطابق صدر صرف ’جواز‘ بنیاد پر ہی کسی گورنر کو برطرف کر سکتے ہیں۔ تاہم اس ’جواز‘ کی تعریف اور طریقہ کار پر کبھی عدالت میں بحث نہیں ہوئی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *