
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: لبنان ایک بار پھر داخلی فیصلوں اور بیرونی دباؤ کے تصادم میں گرفتار ہے۔ حزب اللہ کی مزاحمت نے گزشتہ دو دہائیوں سے نہ صرف لبنان کی قومی سلامتی کو تحفظ فراہم کیا ہے بلکہ اسرائیلی جارحیت کے سامنے ایک موثر دفاعی ڈھال بھی ثابت ہوئی ہے۔ تاہم امریکہ اور صہیونی حکومت کی دیرینہ سازشوں کے تحت اب حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی نئی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ لبنانی حکومت کی جانب سے اس حساس معاملے پر حالیہ فیصلے ملک کے سلامتی توازن، خودمختاری اور استحکام کو سنگین خطرات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں ذرا سی لغزش بھی لبنان کو تباہ کن نتائج کی جانب دھکیل سکتی ہے۔
لبنان کی معاصر تاریخ ہمیشہ بیرونی مداخلت، کمزور اتحادوں اور ارادوں کے تصادم کا میدان رہی ہے۔ ان حالات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا موضوع ایک بار پھر میڈیا اور داخلی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔ لیکن اس بار یہ مسئلہ محض ایک سیکیورٹی یا سیاسی فیصلہ نہیں، بلکہ لبنان کی حاکمیت کی حقیقت اور خطے کے سیکیورٹی توازن کی ازسرنو تشکیل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اس حساس مسئلے کو سمجھنے کے لیے جولائی 2006 کی طرف لوٹنا ہوگا؛ جب حزب اللہ نے اپنی عوامی مزاحمتی قوت اور دفاعی حکمت عملی کی بدولت 33 روزہ جنگ میں اسرائیلی فوج کو روک کر خطے کے طاقت کا توازن کو یکسر بدل دیا۔ یہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس حقیقت کی تصدیق تھی کہ لبنان کے رسمی اور سفارتی ڈھانچے تنہا بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایک عوامی و مزاحمتی قوت ہی جغرافیائی خلا کو پر کرسکتی ہے۔
یہ کردار بعد ازاں شام، عراق، اور خود لبنان کے اندر انتہا پسند گروہوں کے خلاف کئی بار ثابت ہوچکا ہے۔ مگر اب 2025 میں، جب لبنان کی حکومتی ساخت کمزور ہوچکی ہے، اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری گھٹ چکی ہے، معیشت متزلزل ہے اور سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، تو ایک بار پھر مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ زیر بحث ہے یعنی پرانے الفاظ میں مگر نئے عزائم کے ساتھ۔
مغربی ذرائع ابلاغ، بالخصوص واشنگٹن اور پیرس میں، بار بار اس نکتے پر زور دیا جارہا ہے کہ اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔ اس مطالبے کو ایک منطقی اور عوامی مفاد پر مبنی اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ مطالبہ ایسے حالات میں جب لبنان کی فوج نہ تو تکنیکی اعتبار سے اور نہ ہی نفسیاتی طور پر حزب اللہ کا متبادل بن سکتی ہے، واقعی استحکام لا سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ لبنانی فوج اس وقت بجٹ بحران، فرقہ وارانہ تقسیم اور بیرونی امداد پر انحصار جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اس کے پاس نہ دفاعی قوت بننے کی صلاحیت ہے، نہ ارادہ۔ مزید یہ کہ فوج کے بعض حصے حزب اللہ کے ہمفکر بھی ہیں۔ ایسی صورت میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش خود فوج کے اندر اتحاد و جواز کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
حالیہ واقعات، جن میں ٹارگٹ کلنگز اور جنوبی لبنان پر بمباری شامل ہے، واضح کرتے ہیں کہ صہیونی حکومت ایک منظم منصوبے کے تحت لبنان میں مقاومت کو مٹانے کے درپے ہے۔ حزب اللہ کے اعلی رہنماؤں کی شہادت تو صرف شروعات ہے؛ اگر منظم مزاحمت نہ رہی تو یہ منصوبہ جنوبی لبنان، وادی بقاع بلکہ دارالحکومت بیروت تک کے دوبارہ قبضے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل کوئی محض سیکیورٹی فیصلہ نہیں بلکہ کھلی سیاسی خودکشی ہوگا۔ صدام حسین کے بعد عراق کی مثال واضح ہے کہ مستقبل کا سوچے بغیر غیر مسلح کرنے کا منصوبہ کس انجام تک پہنچ سکتا ہے۔ عراقی فوج کا خاتمہ اور حشد الشعبی کو کنارے لگانا داعش کے ابھرنے اور ملک کی عملی تقسیم کا سبب بنا۔ اسی طرح لیبیا میں قذافی کے بعد مزاحمتی ڈھانچوں کے انہدام نے ملک کو مسلح گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ لبنان، جس کا سماجی و سیاسی تانا بانا نہایت پیچیدہ اور نازک ہے، ایسے کسی تباہ کن منظرنامے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
لبنان کے بحران کے حوالے سے سب سے بڑی تجزیاتی غلطی یہ ہے کہ مزاحمت کو ایک مؤثر بازدار قوت کے طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔ حزب اللہ اب عملاً لبنان کی قومی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ اگر اس قوت کو ختم کیا گیا، جبکہ ریاستی اداروں کو متبادل کے طور پر مضبوط نہیں کیا گیا، تو ملک کو مکمل سیکیورٹی خلا کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی تناظر میں، مغربی سفارتی تجاویز جن میں اسرائیلی حملوں کے رکنے کے بدلے حزب اللہ سے ہتھیار اٹھانے کی بات کی جا رہی ہے، زیادہ تر ماضی کے ناکام معاہدوں جیسے بے معنی وعدوں کے مشابہ ہیں۔ جب تک کوئی پائیدار، ضمانت شدہ فریم ورک موجود نہ ہو، دباؤ کے تحت کیے گئے معاہدے دیرپا ثابت نہیں ہوسکتے۔
لبنان کو ایک ہمہ جہتی حل کی ضرورت ہے جس میں نہ حزب اللہ کو مٹایا جائے، نہ لبنانی فوج کو کمزور کیا جائے۔ ایسا ماڈل جس میں ریاست اور مزاحمتی قوت کے درمیان ہمآہنگی پیدا کی جائے، سیکیورٹی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اصلاحات کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ ایسی تجاویز جیسے کہ حزب اللہ کو رسمی دفاعی ڈھانچے میں شامل کرنا یا اسے قومی سلامتی کی اعلی کونسل میں شمولیت دینا نہ صرف مذاکرات کی راہ کھول سکتے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو انتہا پسندی سے بھی بچاسکتے ہیں۔ یہ دعوی کہ حزب اللہ کے ہتھیار رکھ دینے سے لبنان کو عالمی مالی امداد تک رسائی حاصل ہوجائے گی، ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ گزشتہ برسوں کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ ایسی امداد یا تو سخت شرائط کے ساتھ مشروط رہی ہے یا کبھی عملی جامہ نہیں پہن سکی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور یورپی یونین پر بڑھتی ہوئی انحصاری لبنانی داخلی پالیسی اور معیشت میں مداخلتوں کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ لبنان کو ایک ایسے اقتصادی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو شفاف ہو، قومی سرمائے کی اندرونی گردش کو فروغ دے اور مغربی وابستگی کی زنجیروں کو توڑسکے۔ ورنہ ہر مالی امداد، ایسی رسی بن جائے گی جو لبنانی پالیسی کو بیرونی مفادات کی غلامی میں جکڑ دے گی۔
آج کا لبنان ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ اس کے مستقبل کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ اگر سلامتی اور معیشت کے لیے کوئی ہمہ گیر منصوبہ بندی کے بغیر حزب اللہ کو غیر مسلح کیا گیا تو نہ صرف ریاست مضبوط نہیں ہوگی بلکہ مزید زوال کی راہیں کھل جائیں گی۔ اس کے برخلاف، اگر مقاومت اور ریاست کے درمیان ایک دانشمندانہ اور مربوط ہم آہنگی قائم کی جائے اور اس کے ساتھ حقیقی اصلاحات و پائیدار ترقی کو آگے بڑھایا جائے تو لبنان ایک بار پھر ایک خودمختار، مستحکم اور محفوظ ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
آخرکار، لبنان کی تقدیر سفارتی بیانیوں میں نہیں بلکہ طاقت کے زمینی حقائق کی حقیقت پسندانہ تفہیم، عوامی مزاحمتی کردار کی شناخت اور پڑوسی ممالک کے تلخ تجربات سے سبق لینے میں طے ہوگی۔ جو بھی قدم ان زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے اٹھایا جائے گا، وہ تاریخ کا اعادہ ہوگا نہ کہ ایک نیا باب۔
