غورطلب ہے کہ حال ہی میں آر ایس ایس کے سرکاریہ واہ دتاتریہ ہوسبولے نے یہ بیان دیا تھا کہ چونکہ یہ دونوں الفاظ آئین کے اصل متن میں شامل نہیں تھے، اس لیے انہیں ہٹایا جانا چاہیے۔ کچھ بی جے پی لیڈران نے بھی اس مطالبے کی حمایت میں بیانات دیے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان مطالبات کو محض الفاظ کی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے پس منظر میں ایک نظریاتی سوچ کارفرما ہے جو آئینی مساوات، سیکولرازم اور فلاحی ریاست کے اصولوں سے انحراف چاہتی ہے۔
جمہوری اداروں اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ آئین کی تمہید صرف علامتی الفاظ نہیں، بلکہ وہ بنیادی اقدار کی نمائندہ ہے جن پر ہندوستانی ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایسے میں ان الفاظ کو ہٹانے کا مطالبہ دستور کی روح کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔
