کھڑگے نے کہا کہ سوامی ویویکانند نے محض 39 برس کی عمر میں دنیا کو الوداع کہا لیکن ان کا فکری ورثہ نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بن چکا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو خود پر یقین کرنے، اپنی روحانی طاقت کو پہچاننے اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج جب دنیا ایک بار پھر تعصب، منافرت اور ٹکراؤ کی لپیٹ میں ہے، ایسے وقت میں سوامی ویویکانند کا پیغام نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ کھڑگے نے کہا ’’ہمیں ان کے نظریات کو صرف یاد ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ عملی طور پر اپنے رویّوں میں شامل بھی کرنا چاہیے۔‘‘
