بین الاقوامی پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق جیسے ہی اسرائیل کی طرف سے ایران پر ڈرون اور میزائل حملوں کی خبریں سامنے آئیں، کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل اور عراق کی فضائی حدود سے بھی اپنی پروازیں روک دیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اس طرح کے تنازعات فضائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کا نشانہ اگر غلطی سے کسی کمرشل طیارے کو بن جائے تو بڑے جانی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ایئر لائنز متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں یا پھر فلائٹس منسوخ کی جا رہی ہیں۔
