کانگریس نے دہلی کی وزیر اعلیٰ رکھا گپتا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹنگ کی تھی، بہانوں کے لیے نہیں۔


ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس /DrNareshkr@
نئی دہلی: دہلی میں بی جے پی حکومت کے پہلے 100 دنوں کی مدت کار کو دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان اور سابق جنرل سکریٹری ڈاکٹر نریش کمار نے پوری طرح ناکام قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی صرف اپنی پیٹھ تھپتھپانے میں ماہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پہلے 100 دنوں میں عوام کی بھلائی کے لیے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا گیا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ 100 دن کھوکھلے دعوے اور نظر انداز عوامی مسائل کے لیے یاد کیے جائیں گے۔ بی جے پی اعلیٰ کمان کے لیے یہ اُتسو نہیں، خود احتسابی کا وقت ہے۔ کانگریس نے دہلی کی وزیر اعلیٰ سے 100 سوالات بھی پوچھے اور کہا کہ اگر وہ ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتیں تو انھیں چاہیے کہ وہ عہدہ سے استعفیٰ دے دیں۔ جو سوالات ڈاکٹر نریش کمار نے وزیر اعلیٰ سے پوچھے ہیں، ان میں سے کچھ اس طرح ہیں:
-
دہلی دیہات میں سرکل ریٹ نہیں بڑھے ہیں، لینڈ پولنگ منصوبہ جوں کی توں کیوں ہے؟
-
ڈی پی ایس دوارکا اور دیگر کئی سینکڑوں اسکولوں کی منمانی کے خلاف بی جے پی حکومت نے کیا کیا؟
-
سیور اوور فلو اور بارش آبی جماؤ کے مسئلہ کا کیا ہوا؟ بنیادی ڈھانچے کی حالت بدتر کیوں ہے؟
-
100 دن میں 1000 سے زیادہ جھگیاں اجڑیں، آلودہ پانی اور بجلی کٹوتی نے ریکارڈ بنایا، اس طرف توجہ کیوں نہیں؟
ڈاکٹر نریش کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کے 100 دنوں میں گارنٹی صرف جملوں تک محدود رہی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ دہلی دیہات کے لیے کوئی کام نہیں ہوا، سرکل ریٹ نہیں بڑھے، لینڈ پولنگ منصوبہ پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، اور نہ ہی کوئی زرعی منصوبہ نافذ کیا گیا۔ گھیورا موڑ پر بننے والی اسپورٹس یونیورسٹی سے متعلق بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ راجدھانی میں سڑکوں کی حالت، سیور سسٹم کی خستہ حالی، آبی جماؤ کا مستقل مسئلہ، آلودگی، ٹریفک مسئلہ، آلودہ پینے کا پانی اور کچرا مینجمنٹ وغیرہ میں ایک فیصد بھی بہتری نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت جھگیوں اور غیر منظور شدہ کالونیوں کو توڑ رہی ہے، لیکن وہاں بنیادی سہولیات اور مالکانہ حق دینے پر خاموش ہے۔ جو مارشل معاہدہ کے طور پر کام کر رہے تھے، انھیں ہٹا کر حکومت نے بہت ہی غیر اخلاقی عمل انجام دیا ہے۔ ہٹائے گئے مارشل آج بھی سڑکوں پر ہیں۔
ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی بی جے پی صدر ویریندر سچدیوا کے اس بیان کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ بتایا، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ دہلی کی عوام بی جے پی کی حساس حکومت کو محسوس کر رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’آج دہلی کی عوام خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہی ہے۔‘‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے 100 دنوں میں دہلی کے نظام کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ’محلہ کلینک‘ کا نام تو بدل دیا گیا، لیکن سہولیات میں بہتری کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ محلہ کلینک میں کام کر رہے 2000 ملازمین کی ملازمتوں پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے، انھیں کبھی بھی نکالا جا سکتا ہے۔
حکومت کی نئی ’دیوی بس سروس‘ پر سوال کھڑے کرتے ہوئے ڈاکٹر کمار نے کہا کہ یہ سروس اب تک دہلی کے دیہی علاقوں تک نہیں پہنچی ہے، اور عام لوگ اس کے راستوں سے بھی انجان ہیں۔ اسی وجہ سے بیشتر بسیں خالی چل رہی ہیں۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دہلی حکومت ’منی سکریٹریٹ‘ کے نام پر صرف دکھاوا کر رہی ہے، جبکہ کئی اہم انتظامی عہدے اب بھی خالی پڑے ہیں، جو بے حد فکر انگیز حالت ہے۔ ڈاکٹر کمار کے مطابق آج کی دہلی 27 سال قبل والی حالت میں لوٹ چکی ہے، جہاں گھنٹوں بجلی کٹوتی عام ہو چکی ہے اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک نہیں مل رہا ہے۔ جن ٹینکر مافیا کے خلاف پارٹی نے کارروائی کا وعدہ کیا تھا، آج وہی مافیا حکومت کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر کے مطابق انتظامی حالات بھی اتنے بگڑ چکے ہیں کہ افسروں کو اب ملازمین پر ڈاٹ پھٹکار لگا کر کام کروانا پڑ رہا ہے، جس سے سرکاری مشینری میں افرا تفری کا ماحول ہے۔ دہلی کی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹنگ کی تھی، بہانوں کے لیے نہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
