[]
انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ یورپی یونین (ای یو) ترکیہ سے الگ ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی اس سلسلے میں جائزہ لیں گے اور اس کے بعد اگر ضروری ہوا تو ہم یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔
صدر اردغان نےان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 78ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک روانہ ہونے سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کشیدگی کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے انہیں اپنی قیادت میں سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کی بجائے اس سلسلے میں، ہم نے سہ فریقی پیشکش کی بجائے چارفریقی (ترکیہ، آذربائیجان، آرمینیا، روس) پر مشتمل اجلاس منعقد کرنے کی پیشکش کی ہے۔
نیٹو میں سویڈن کی رکنیت کے بارے میں ایردوان نے کہا کہ مغرب ‘سویڈن، سویڈن، سویڈن کی رٹ لگائے ہوئے ہے جبکہ ہم پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد ہی اس بارے میں ہاں یا نہ کا جواب دیں گے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے سویڈن کو اپنا فرض پورا ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون (انسداد دہشت گردی کا نیا قانون) تیار کرنا کافی نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کرنا بھی ضروری ہے۔
سویڈن پولیس کی حفاظت میں دہشت گرد مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں تو تو اس کا مطلب ہے حکومت سویڈن اپنا فرض ادا نہیںکرنے سے قاصر ہے۔
اردغان نے ترکیہ کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کی رپورٹ کا بھی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ترکیہ سے الگ ہونے کی کوششو میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد اگر ضروری ہوا تو ہم یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔
در رجب طیب ایردوان اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آج امریکہ روانہ ہو رہے ہیں امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔
ایوان صدر کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشن کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ایردوان نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے 16 سے 20 ستمبر کے درمیان امریکہ کا دورہ کریں گے۔
صدر اردغان نے 19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے ، جنرل اسمبلی کے پہلے دناجلاس کا موضوع “اعتماد کی بحالی اور عالمی یکجہتی کو بحال کرنا: 2030 کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب تیزی سے کارروائی، امن، خوشحالی کی طرف۔ سب کے لیے ترقی اور پائیداری کے عناون کے تحت خطاب کریں گے ۔
نیویارک میں اپنے قیام کے دوران، ایردوان سے بہت سے اعلیٰ سطحی رابطے اور ملاقاتیں متوقع ہیں اور وہ مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کریں گے۔