ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی بیسرن میں حملے کے دوران 15 سے 20 منٹ تک مسلسل اے کے-47 سے فائرنگ کی گئی۔ حملہ آوروں میں سے دو افراد پشتو زبان میں بات کر رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ حملے کے وقت ایک یا دو دہشت گردوں نے باڈی کیمرا بھی پہن رکھا تھا، جس کے ذریعے پورے حملے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔
حملے کے بعد سے این آئی اے، فوج، پولیس اور دیگر ایجنسیاں مسلسل چھاپے مار رہی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ جنوبی کشمیر میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے اور کئی مشتبہ مقامات پر سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
