چیف جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ وہ وقف قانون کے تین اہم پہلوؤں پر عبوری حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس میں وقف قرار دی گئی جائیدادوں کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنا، کلکٹر کی اختیارات پر ممکنہ روک اور وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی شمولیت پر عبوری حکم شامل ہو سکتا ہے۔
عدالت میں مرکزی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے قبل حکومت کو اپنا جواب پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے مرکز کو سات دن کی مہلت دی ہے تاکہ وہ تفصیلی جواب داخل کرے۔
