
بھوپال، 22 جون (پریس ریلیز): مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے آج پرشاسن اکیڈمی، شاہ پورہ، بھوپال میں یکساں سول کوڈ (UCC) کے سلسلہ میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی ،جس میں مختلف مذاہب، سماجی تنظیموں اور طبقات کے نمائندوں نے شرکت کرکے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
میٹنگ میں امیرِ شریعت، مفتیِ اعظم ، صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش حضرت مولانا مفتی محمد احمد خان صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری، سیکولر اور کثیر مذہبی ملک ہے، جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد محترم حضرت مولانا مفتی عبدالرزاق خانصاحب رحمتہ اللہ علیہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں شریک رہے اور مجاہدِ آزادی تھے۔ ملک کی آزادی میں تمام مذاہب کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، اس لیے آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، لیکن ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا جانا چاہیے جس سے کسی مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی احکام پر عمل کرنے میں دشواری پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مرتب کردہ آئین ہند نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے شخصی قوانین اور مذہبی روایات پر عمل کرنے کی آزادی دی ہے، جسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ مختلف مذاہب میں نکاح، طلاق، وراثت اور خاندانی معاملات کے طریقے الگ الگ ہیں، اس لیے یکساں سول کوڈ ملک کے تنوع اور آئینی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے ناظمِ تنظیم و سابق صدر نگم و اقلیتی طبقہ صاحبزادہ عبدالرشید خان صاحب نے کہا کہ ہندوستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، تہذیبوں اور مذاہب کا حسین گلدستہ ہے اور یہی گوناگونی اس کی اصل شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مختلف مذاہب اور برادریوں کے رسوم و رواج، عائلی قوانین اور مذہبی روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو تمام طبقات پر یکساں قانون نافذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سیکولر شناخت اور آئینی اقدار کا تقاضا ہے کہ ہر مذہب اور طبقے کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ حکومت کو کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت مذہبی و ثقافتی تنوع، آئینی حقوق اور عوامی جذبات کو پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ ملک کی مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔
دونوں نے مطالبہ کیا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں ملک کی مذہبی و ثقافتی گوناگونی اور آئینی حقوق کو مدنظر رکھا جائے اور ایسا کوئی قانون نافذ نہ کیا جائے جس سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی مذہبی آزادی متاثر ہو۔اس موقع پر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کی جانب سے یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں ایک میمورنڈم بھی کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔
میٹنگ میں جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کی جانب سے حضرت مولانا مفتی شکیل احمد صاحب واجدی آفس سیکریٹری جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش ،صاحبزادہ عبد الہادی خانصاحب، حضرت مولانا امان اللہ صاحب سمیت دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔
