
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان حالیہ جنگ رمضان کے بعد طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے بعد بھی جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اس معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں فوری اور دائمی جنگ کے خاتمے اور کسی بھی قسم کی دشمنانہ کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے اجتناب کا عہد کیا گیا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، جہاں صہیونی فورسز کی سرحدی علاقوں اور جنوبی لبنان میں موجودگی اور میدان میں برتری حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تل ابیب یا تو اپنے معاہداتی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کر رہا، یا پھر وہ انہیں اپنے علیحدہ اسٹریٹجک حساب کتاب کے تحت آگے بڑھا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے ایران کے فیصلہ سازوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ تہران اس کھلی خلاف ورزی اور لبنان میں طاقت کا توازن بدلنے کی کوششوں کے مقابلے میں کیا حکمت عملی اختیار کرے۔
یہ معاملہ صرف ایک وقتی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اسے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات، جنگ رمضان کے بعد پیدا ہونے والی ڈیٹرنس کی کیفیت اور ایک نئے علاقائی سکیورٹی آرڈر کی تشکیل کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
اگرچہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بعض اختلافات کے اشارے موجود ہیں، تاہم اسٹریٹجک اتحاد کی بنیادی ساخت برقرار ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ ممکن ہے کہ یہ اختلاف “اچھے پولیس اور برے پولیس” کے ماڈل کو دوبارہ جنم دے، جس میں اسرائیلی پیش قدمی امریکہ کے لیے مذاکراتی دباؤ کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ایران، جنگ رمضان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں وہ اپنے لیے ایک نئے سکیورٹی نظم کو مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں اصل فریقِ مخالف اسرائیل ہے جسے کسی نہ کسی حد تک معاہداتی فریم ورک کے اندر لانا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایران کی حکمت عملی کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ دباؤ کے وسائل کے استعمال اور ایٹمی معاملے میں محتاط اور لچکدار سفارتی رویے کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات: دراڑ یا اسٹریٹجک ہم آہنگی؟
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگ رمضان کے بعد اور ایران کے مقابلے میں امریکی-صہیونی فریق کی ناکامی کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان تناؤ اور اختلاف رائے کے کچھ آثار سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ اختلافات اس بات کی علامت نہیں کہ دونوں پرانے اتحادی اپنے راستے جدا کر رہے ہیں، بلکہ یہ زیادہ تر ان کے اہداف اور ممکنہ طور پر بحران سے فائدہ اٹھانے کے طریقہ کار میں فرق کی عکاسی کرتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل اب بھی مغربی ایشیا میں امریکہ کے لیے ایک کلیدی سکیورٹی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے، اور واشنگٹن اس اسٹریٹجک اثاثے کو آسانی سے قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی دوران جنوبی لبنان میں اسرائیل کی بتدریج زمینی پیش قدمی دونوں فریقوں کے لیے بیک وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے؛ ایک طرف یہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں ایک مضبوط دباؤ کا ذریعہ فراہم کرتی ہے، اور دوسری طرف تل ابیب کے لیے جنوبی لبنان میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور ایک نئے سکیورٹی نظام کو مستحکم کرنے کا موقع پیدا کرتی ہے۔
اس ممکنہ ہم آہنگی کے پیش نظر ایران کی خارجہ پالیسی کے تقاضے مزید واضح ہو جاتے ہیں۔ اگر ایران صرف 14 نکاتی مفاہمتی معاہدے پر فنی انداز میں عمل کرے تو یہ خطرہ موجود ہے کہ ایک غیر متوازن صورتحال قائم ہو جائے گی، جس میں اسرائیل جنوبی لبنان سے مکمل انخلاء کے بغیر مستقل طور پر موجود رہے گا، اور حالات ایران کے خلاف تبدیل ہوسکتے ہیں۔
ایران کے دباؤ کے ذرائع اور عملی آپشنز
اس صورتحال کے مقابلے میں ایران کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں جنہیں وہ مرحلہ وار اور دانشمندانہ انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز یا باب المندب کو بند کرنا ایک طاقتور جغرافیائی اور اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر سامنے آتا ہے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی قیمت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے اور واشنگٹن و تل ابیب کے لاگت و فائدے کے حساب کو بنیادی طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ پریشر لیور نہ صرف عالمی توانائی کی ترسیل پر اثر ڈالتے ہیں بلکہ امریکی حکومت پر اقتصادی و سیاسی دباؤ بڑھانے اور یہ پیغام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ لبنان کے محاذ میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ تاہم ایسے اقدامات کو تدریجی اور متناسب انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ یہ مکمل جنگ میں تبدیل نہ ہوں اور ساتھ ہی ایران کا واضح اور کنٹرول شدہ پیغام بھی پہنچ جائے۔
جوہری فائل میں ایران کم سطح پر افزودگی میں ایک ہوشمندانہ تاکتیکی لچک دکھا سکتا ہے؛ ایسی لچک جو امریکہ کے لیے علامتی اور عملی دونوں لحاظ سے اہم ہو سکتی ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کے لیے فضا پیدا کرسکتی ہے۔ یہ لچک ممکنہ طور پر فوری طور پر سکیورٹی خطرہ پیدا نہیں کرتی، کیونکہ 60 فیصد افزودہ ذخائر برقرار رہنے کی صورت میں ایران اپنی اسٹریٹجک صلاحیت اور مستقبل میں تیزی سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی استعداد محفوظ رکھتا ہے۔
درحقیقت، یہ تاکتیکی لچک صرف اس صورت میں استعمال ہونی چاہیے جب اس کے بدلے دیگر محاذوں پر واضح اور اسٹریٹجک فوائد حاصل ہوں۔ لبنان میں جنگ بندی کا نفاذ، اسرائیل کا وہاں سے انخلا، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور 60 فیصد افزودہ ذخائر کا مکمل تحفظ ایران کی غیر متزلزل سرخ لکیریں تصور کی جاتی ہیں۔
اس متوازن حکمت عملی کا بنیادی مقصد اسرائیل کو جنگ رمضان کے بعد پیدا ہونے والی نئی حقیقت کو قبول کرنے اور جنوبی لبنان سے مکمل انخلا پر مجبور کرنا ہے، تاکہ وہ معاہدے کی خلا سے فائدہ اٹھا کر میدان میں یکطرفہ تبدیلی نہ کر سکے اور خطے کا سکیورٹی توازن مقاومتی محاذ کے حق میں مستحکم ہوجائے۔
مقاومتی محاذ اور ایران کی اسٹریٹجک حکمت عملی
مستحکم کرنے کے لیے لبنان کے محاذ کی سکیورٹی توازن کو ازسرِنو متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ حزبالله مزاحمتی محور کے ایک کلیدی کردار کے طور پر اس سکیورٹی معادلے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھے بغیر کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نتائج آئندہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
لہٰذا ایران کی پالیسی کو مزاحمتی محور کے ارکان کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، جغرافیائی و اسٹریٹجک پریشر لیور کو فعال کرنے، اور بیک وقت سفارت کاری اور ڈیٹرنس کے استعمال پر مبنی ہونا چاہیے۔ جنگ رمضان کے تجربے نے یہ ثابت کیا کہ ایران کی مزاحمت اور مزاحمتی محور کی ہم آہنگی نے مزاحمتی محاذ کی کمزوری کے بیانیے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ اس مزاحمت کو ایک پائیدار اسٹریٹجک کامیابی میں تبدیل کیا جائے۔
حاصل سخن
14 نکاتی مفاہمتی معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی پیش رفت کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ صرف معاہدے کی ساکھ کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے بلکہ ایران کی علاقائی سکیورٹی نظم کو ازسرنو تشکیل دینے کی صلاحیت کا بھی امتحان ہے۔
اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجود دراڑ حقیقی ہے، تاہم یہ امکان موجود ہے کہ یہ اختلاف اس حد تک محدود رہے گا کہ تل ابیب کی پراکسی حیثیت کو مکمل طور پر متاثر نہ کرے۔ اسی لیے ایران صرف واشنگٹن کی ظاہری نیک نیتی پر انحصار نہیں کر سکتا کہ وہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹا دے، بلکہ اسے اپنے دباؤ کے پریشر لیور کو بروئے کار لا کر اسرائیل کو نئے حالات کو قبول کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کا مستقل ہونا نہ صرف جنگ بندی کو غیر مؤثر بناتا ہے بلکہ آئندہ بحرانوں کے دوبارہ جنم لینے کے خطرے کو بھی بڑھاتا ہے۔ جنگ رمضان کے بعد مضبوط ہونے والی پوزیشن کے باعث ایران کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرے۔
ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ نہ تو مکمل ٹکراؤ اور سخت محاذ آرائی کی طرف جائے اور نہ ہی صرف سفارتی خاموشی اختیار کرے۔ اس کے بجائے وہ ایک سمجھداری کے ساتھ بحران کو سنبھالنے کی پالیسی اپنائے۔ اس پالیسی کا مقصد لبنان میں اپنی سکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانا اور خطے میں اپنے دفاعی توازن کو بہتر کرنا ہے۔ خطے کے مستقبل اور ایران کی سکیورٹی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہے کہ تہران اس حساس صورتحال میں کتنی دانشمندی، سنجیدگی اور مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
