عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ ایک واقعے کو روکنے کے لیے پورے پلیٹ فارم کو بند کرنا ایک اہم سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کی دفعہ انہتر اے کے تحت اختیارات ضرور موجود ہیں، لیکن ان کا دائرۂ استعمال کس حد تک ہو سکتا ہے، یہی اصل معاملہ ہے۔
تشار مہتا نے عدالت میں کہا کہ ٹیلیگرام کی رازداری پالیسی کے مطابق کھاتہ حذف ہونے کی صورت میں تمام پیغامات اور مواد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف رپورٹوں میں اس پلیٹ فارم کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے پسندیدہ ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور اس کا مخصوص ڈھانچہ دیگر شعبوں میں بھی چیلنج پیدا کرتا ہے۔
