ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت کی 14 شقیں قومی مفادات کے تحفظ کی ضامن ہیں، بروجردی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات بیان کیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے صہیونی وزیراعظم کے دباؤ میں آکر ایران پر حملہ کیا اور کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے صہیونی حکومت کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے غلط اندازہ لگایا.

علاء الدین بروجردی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی 14 شقیں نہایت اہم ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کو نمایاں طور پر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ہمیشہ امریکا کے بارے میں بدگمان رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں سے پھر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ ورلڈ کپ اور امریکی کانگریس کے انتخابات کے باعث امریکا اس معاہدے پر عمل کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد کی پہلی علامت یہ تھی کہ ایرانی جہاز محاصرے کے باوجود باآسانی اپنی منزل کی جانب گزرنے میں کامیاب ہوئے۔

علاء الدین بروجردی نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک اور اہم شق کے تحت امریکا نے بالواسطہ طور پر مزاحمتی محاذ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تزویراتی اتحادی کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ان کے بقول دستاویز کی پہلی شق، جس میں لبنان پر حملہ نہ کرنے کی بات شامل ہے، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ لبنان کو مزاحمتی محاذ کی ایک اہم کڑی تسلیم کیا گیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس شق کو قبول کیا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *