پورے لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونا چاہیے،امریکہ و اسرائیل سنگین غلط فہمی کا شکار ہیں، محسن رضایی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کمانڈر کے فوجی مشیر اور سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر ریٹائرڈ جنرل محسن رضائی نے روسیا الیوم ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ لبنان میں موجودہ صورتحال دراصل ایک مصنوعی جنگ بندی ہے اور حقیقی جنگ بندی کا نفاذ پورے لبنان میں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان کے معاملے میں سنگین غلط حساب کتاب کا شکار ہو چکے ہیں۔

مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں رضایی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا مسئلہ غیر مستحکم بیانات اور متضاد موقف ہے جس کی وجہ سے ایران کا امریکہ پر اعتماد مزید کم ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے تاہم مذاکرات میں اب بھی کئی ابہام موجود ہیں۔ ان کے بقول ٹرمپ مذاکرات کے اصولوں کی پابندی نہیں کرتے اور زیادہ مطالبات پیش کرتے ہیں، جبکہ ایران شفاف مذاکرات کا خواہاں ہے۔

محسن رضائی نے کہا کہ ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر دفاع کے معاملے میں اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے اور کسی بھی صورت کمزور پوزیشن سے بات چیت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے دوران دنیا کے سامنے امریکہ کے وعدہ خلافی، قانون شکنی اور اقوام کے حقوق کی پامالی کے چہرے کو بے نقاب کیا ہے، جبکہ میدان جنگ میں بھی ان کی حقیقت واضح ہو چکی ہے، جو ایران کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

رضایی نے کہا کہ ایران اسی وقت کسی معاہدے پر رضامند ہوگا جب بین الاقوامی قانون کے مطابق ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کیے جائیں، تاہم ان کے بقول وہ ذاتی طور پر کسی معاہدے کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہیں کیونکہ ٹرمپ غیر مستحکم ہیں اور اسرائیل کے زیر اثر بھی ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *