جشنِ ابلاغِ ولایتِ امیرالمؤمنینؑ، تقریری مقابلہ اور تقسیمِ انعامات کی شاندار تقریب منعقد
حیدرآباد، 20 جون:(سفیر نیوز)
سالہا سال کی طرح امسال بھی حضرت امیرالمؤمنین ایجوکیشنل اینڈ کمپٹیشن ایوارڈز و جشنِ ابلاغِ ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سلسلے میں 20 ذی الحجہ 1447 ہجری بمطابق 20 جون 2026 بروز اتوار، امام جعفر صادقؑ ہال، عبادت خانہ حسینی، دارالشفاء حیدرآباد دکن میں ایک عظیم الشان جشن، تقریری مقابلہ اور تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔
یہ تقریب مدرسہ امیرالمؤمنینؑ کے موسس و مدیر مولانا مرزا عسکری علی خاں صاحب قبلہ کی نگرانی میں منعقد ہوئی، جس میں قوم و ملت کے نونہالوں اور نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
پانچ سے نو سال عمر کے بچوں کے لیے “ابلاغِ غدیر رنگ بھرو مقابلہ” منعقد کیا گیا تاکہ نئی نسل تک پیغامِ غدیر مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
اسی طرح 10 سے 22 سال عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے تقریری مقابلہ رکھا گیا، جس میں شرکاء نے حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کے مختلف گوشوں پر مدلل اور مؤثر تقاریر پیش کیں۔ تقریر کے موضوعات میں مولاؑ علی مولودِ کعبہ، دعوتِ ذوالعشیرہ، شبِ ہجرت، فتحِ مکہ و بت شکنی، واقعۂ غدیر، جنگِ تبوک و واقعۂ عقبہ اور اہلِ سنت کی کتب میں حدیثِ غدیر شامل تھے۔
اس موقع پر ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ سال اول و دوم میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو اسناد، تمغے، نقدی انعامات اور دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔
اس نورانی و علمی محفل میں مولانا علی حیدر فرشتہ، مولانا ظفر یاب حیدر، ذاکرِ اہلِ بیتؑ ڈاکٹر شوکت علی مرزا، مولانا محمد عباس، مولانا میر نادر علی، مولانا محمد مدثر خان، مولانا مصطفیٰ علی خاں، مولانا محمد علی رضوی، مولانا محمد علی آجانی، مولانا شان حیدر، ذاکرِ اہلِ بیتؑ منتظر مہدی، ذاکرِ اہلِ بیتؑ اکبر رضوی، جناب حسین سر، عالمہ زہرا رضوی، عالمہ انمول رضوی اور پروفیسر خدیجہ بانو سمیت متعدد علماء، ذاکرین، دانشوران اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں جناب مرزا ریاض الحسن آفندی ایم ایل سی، جناب سید جعفر حسین (صدائے حسینی)، جناب میر حیدر علی رضوی، جناب میر علمدار علی رضوی، جناب نواب میر دلاور علی خان اور جناب سید علمدار عرف محمد نے بھی شرکت کی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض جناب مہدی رضوی صاحب نے بخوبی انجام دیے، جبکہ حاضرین نے اس علمی، تعلیمی اور دینی پروگرام کو نوجوان نسل میں تعلیم، شعورِ ولایت اور دینی اقدار کے فروغ کی ایک اہم کاوش قرار دیا۔
