امریکی متضاد موقف مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ، اسماعیل بقائی 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطے بدستور جاری ہیں، تاہم امریکی پالیسیوں میں مسلسل تبدیلی اور مختلف حکام کے متضاد بیانات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں بقائی نے کہا کہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن امریکہ کو سب سے پہلے ایران کے قانونی حقوق، خصوصاً پرامن جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں اور اقتصادی پابندیوں کا مسئلہ بھی مذاکرات کے اہم نکات میں شامل ہے اور واشنگٹن کو اس سلسلے میں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

بقائی نے امریکہ کی طرف سے بار بار اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایرانی تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ خطے کی صورتحال انتہائی نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور اگر ایران پر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایرانی مسلح افواج پوری قوت کے ساتھ اس کا جواب دیں گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *