موساد میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کرگئی؛ نئے سربراہ نے اہم نائب کو برطرف کر دیا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد میں اعلی سطح ہر کشمکش کھل کر سامنے آگئی ہے۔ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق موساد کے نئے سربراہ رومن گافمن نے اپنے نائب اور ادارے کے دوسرے اہم ترین عہدیدار کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

مصری اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطرف کیے گئے عہدیدار، جن کی شناخت صرف حرف “آ” سے ظاہر کی گئی ہے، موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ بارنیا کے قریبی ساتھی تھے اور انہیں بارنیا کے جانشین کے طور پر سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جاتا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطرف ہونے والے نائب نے گافمن کی تقرری کی مخالفت کی تھی، جبکہ بارنیا بھی انہیں موساد کی قیادت سونپنے کے خواہاں تھے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بالآخر رومن گافمن کو موساد کا سربراہ مقرر کیا۔

ذرائع کے مطابق گافمن ماضی میں نیتن یاہو کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ دوسری جانب برطرف کیے گئے افسر کو خفیہ آپریشنز میں 22 سال سے زائد تجربہ حاصل تھا اور وہ موساد کے تین اہم عملیاتی شعبوں کی قیادت بھی کر چکے تھے۔ انہیں پانچ مرتبہ اسرائیل سکیورٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان کی زیر نگرانی اہم ترین فائلوں میں ایران کے خلاف موساد کی مختلف خفیہ کارروائیاں اور ایرانی نظام کے خلاف منصوبے شامل تھے، تاہم یہ منصوبے اپنے حتمی مقاصد حاصل نہیں کرسکے۔

ادھر موساد کے بعض اندرونی حلقوں نے نئے سربراہ کے اس فوری فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گافمن کا پس منظر زیادہ تر فوجی نوعیت کا ہے اور انہیں انٹیلی جنس اداروں کے پیچیدہ انتظامی ڈھانچے کا محدود تجربہ حاصل ہے، لہٰذا سابق نائب کو عبوری مدت تک برقرار رکھنا ادارہ جاتی استحکام اور حساس فائلوں کی منتقلی کے لیے زیادہ مناسب ہوتا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اس برطرفی کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موساد کے نئے نائب کا انتخاب ادارے کے اندر موجود افسران میں سے کیا جائے گا، جس کے بعد موساد کی اعلی قیادت میں مزید تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *