
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور رہبر معظم کے دفاعی مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدہ بڑی حد تک تہران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر کی رہائی سے مشروط ہے۔ مذکورہ رقوم ایران کی ملکیت ہیں اور ان کی واپسی مثبت پیش رفت کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا امتحان ہوگا اور اس سے مستقبل کے تعلقات کے لیے ایک نئی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں اور اس تعطل کو ختم کرنے کی ذمہ داری امریکی صدر پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکہ دوبارہ عسکری کارروائی کا آغاز کرتا ہے تو ایران اپنے ردعمل کا دائرہ خلیج فارس سے آگے بڑھا سکتا ہے۔ ممکنہ کارروائیاں آبنائے ہرمز سے لے کر بحرِ ہند، باب المندب، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم تک پھیل سکتی ہیں، جبکہ خطے میں موجود امریکی تنصیبات بھی نشانے پر آ سکتی ہیں۔
محسن رضائی نے اس امکان کو مسترد کیا کہ موجودہ مرحلے میں امریکی صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقات ہو سکتی ہے۔ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور موجودہ تعطل ایسی کسی پیش رفت کی اجازت نہیں دیتا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام میں کلیدی کردار رکھتے ہیں اور اس کی سلامتی و انتظامی امور میں باہمی تعاون جاری رہے گا۔
