دنیا ایران کی دفاعی طاقت سے حیران، غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا، عراقچی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دنیا ایران کی فوری جوابی کارروائی کی صلاحیت پر حیران رہ گئی اور کسی کو توقع نہیں تھی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اتنی تیزی سے ردعمل دے گا۔

انہوں نے خطے کے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات میں کردار ادا کیا، امریکہ سے رابطے کیے اور جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالا۔

عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر وقت تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسرائیل کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول اس وقت امریکہ کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا کوئی واضح طریقۂ کار موجود نہیں، البتہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ امریکہ نے 40 روزہ جنگ کے دوران ایران کی طاقت کا عملی مشاہدہ کیا۔ واشنگٹن ایران کو ایک کمزور ملک سمجھتا تھا اور اسی بنیاد پر جنگ کا آغاز کیا گیا، لیکن تمام امریکی اندازے غلط ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، مگر ایران کسی صورت ایسی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ حکومت کی تبدیلی، عوامی بغاوت اور ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنے جیسے اہداف بھی حاصل نہیں ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے نظام کے خلاف نہیں بلکہ اس کی حمایت میں سڑکوں پر آ کر امریکہ کی تمام توقعات کو غلط ثابت کر دیا۔ اگر ٹرمپ عقل و دانش سے کام لیں تو دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، کیونکہ ایران قومی وحدت، سماجی یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کے ساتھ ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی عسکری صورتحال جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے اور ملک طویل مدت تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران جنگ کا خواہاں ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *