
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب کے مشیر و معاون محمد مخبر نے تہران میں حزب اللہ کے نمائندے عبد اللہ صفی الدین سے ملاقات کے دوران مزاحمتی محاذ کی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنان اور دیگر مزاحمتی محاذوں کو نظرانداز کرکے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
یہ ملاقات آج پیر کی شام تہران میں حزب اللہ کے دفتر میں ہوئی، جہاں حالیہ دنوں میں لبنان پر اسرائیلی حملوں اور ان کے لیے امریکی حمایت کے تناظر میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
محمد مخبر نے لبنان کے عوام اور مزاحمت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مظلوم اور مزاحمت کرنے والے لبنانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور مزاحمتی محاذ کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے شہید رہنماؤں اور ان تمام افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے عالمی استکبار اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مخبر نے کہا کہ مزاحمتی محاذ ایک متحد اور ناقابل تقسیم حقیقت ہے اور لبنان کا مسئلہ ایران کے لیے کسی طور الگ معاملہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام مفاہمتی اور سیاسی معاہدوں میں مزاحمتی محاذ ایران کے لیے ایک بنیادی اور ناقابل تفریق عنصر ہے، لہٰذا صرف ایران کے ساتھ جنگ بندی کا تصور قابل قبول نہیں۔
مزاحمت کامیاب ہوگی
محمد مخبر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مزاحمتی محاذ بالآخر کامیاب ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے اور جارحیت مزاحمت کی مضبوط دیوار سے ٹکرا پاش پاش ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ لبنان کے عوام پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور مشکلات پر گہری تشویش ہے، تاہم خدا کی نصرت اور کامیابی پر مکمل یقین ہے اور ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مخبر نے کہا کہ حزب اللہ کے مجاہدین لبنان کے تمام طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے عوام کے دفاع کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر حزب اللہ کو کمزور کیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پورے لبنان اور اس کے عوام کو پہنچے گا، اسی لیے حزب اللہ کے لیے پسپائی اختیار کرنا ممکن نہیں جبکہ مزاحمتی محاذ بھی اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے
اس موقع پر حزب اللہ کے نمائندے عبداللہ صفی الدین نے ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدوں پر بھروسہ کرنا آسان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ جنگ بندیوں کے دوران بھی اسرائیل نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور اس بات کی کوئی ضمانت موجود نہیں کہ وہ مستقبل میں بھی معاہدوں کی پابندی کرے گا۔
عبداللہ صفی الدین نے مزید کہا کہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس کا مقابلہ صرف مزاحمت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹانے کے لیے مضبوط اور مؤثر مزاحمت ضروری ہے اور یہ عمل جاری ہے۔
ملاقات کے اختتام پر محمد مخبر نے المنار کے نام اپنے پیغام میں لبنانی عوام کو یقین دلایا کہ ان کی جدوجہد کامیابی پر منتج ہوگی اور اسلامی جمہوریہ ایران مزاحمتی محاذ اور حزب اللہ کی حمایت میں اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی بالآخر مزاحمت کا مقدر ہوگی۔
