سویلین اور اقتصادی اہداف کے لیے ڈرون سپورٹ سینٹر قائم کیا جائے گا، ایرانی وزارت دفاع

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹک امور کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی‌نیک نے اعلان کیا ہے کہ وزارت دفاع کے اندر جلد ہی ایک خصوصی ڈرون سپورٹ سینٹر قائم کیا جائے گا، جو شہری ڈرونز کی ترقی، نگرانی اور معاونت کے امور انجام دے گا۔

انہوں نے شہری ڈرون قانون اور اس کے ضابطۂ کار کی حالیہ منظوری کے حوالے سے کہا کہ آج ڈرون ٹیکنالوجی صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس سے وسیع سویلین اور اقتصادی اہداف بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل طلائی‌نیک نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے جدید ترین ڈرونز کے ذریعے ملک کی سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم ایرانی فضائی دفاعی نظام نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں جدید ڈرونز کو تباہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہری ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر مؤثر قانونی نگرانی ضروری ہے تاکہ یہ ٹیکنالوجی عوامی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنے اور جانی و مالی نقصانات سے بچا جاسکے۔ ان کے بقول ایران میں اس شعبے کے لیے پہلے کوئی جامع قانون موجود نہیں تھا، تاہم پارلیمنٹ، حکومت اور مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی مشترکہ کاوشوں سے یہ قانونی خلا پر کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بعض مواقع پر شہری ڈرونز کو ملکی سلامتی کے خلاف بھی استعمال کیا گیا، لیکن نئے قانون کے تحت ان جرائم کی واضح تعریف اور سزا مقرر کیے جانے کے بعد ایسے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے ڈرونز کے سویلین اہداف کے لیے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نقشہ سازی، اراضی و جائیداد کی رجسٹریشن، ہائیڈروگرافی، ارضیات، مٹی کے تجزیے، فضائی تصویربرداری، امدادی کارروائیوں، ماحولیاتی نگرانی، کان کنی اور زراعت سمیت متعدد شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ کشیدگی سے قبل وزارتِ دفاع نے ایرانی ہلالِ احمر کو پہلا شہری ڈرون بیڑا بھی فراہم کیا تھا۔

بریگیڈیئر جنرل طلائی‌نیک نے مزید کہا کہ حکومت، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت دفاع اور کسٹمز کے تعاون سے مقامی ڈرون کمپنیوں کی برآمدات کو فروغ دے گی۔ اس مقصد کے لیے نالج بیسڈ کمپنیوں کو مراعات، مالی معاونت، ٹیکس میں سہولتیں اور قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ ایران شہری ڈرون ٹیکنالوجی کے عالمی برآمد کنندگان میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *